آواز عصر | Awaz Asr
SKU: 42998779680

آواز عصر | Awaz Asr

Sale price$270.00 Regular price$300.00
Save 10%

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 4 - Jul 9

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

آواز عصر | Awaz Asr: ( )

ارشد محمود کی آواز عصر

تحریر: لیاقت علی

ارشد محمو د پاکستان کے روشن خیال اور خرد افروزی کے داعی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ وہ مسلسل کئی سالوں سے پاکستان کے سیاسی، نظریاتی اور فکری مسائل کے بارے میں لکھ رہے ہیں۔ ان کی ان مسائل کے حوالے سے ایک سوچی سمجھی رائے ہے جسے وہ مدلل انداز میں بلا جھجک بیان کرتے ہیں۔ ان کی فکر ی ترجیحات اور ان کی اپروچ سے اختلاف تو ہو سکتا ہے لیکن جس ثابت قدمی سے وہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اورجس بہادری اور بیباکی سے اس کا اظہار کرتے ہیں، اس کی تحسین نہ کرنا تنگ دلی کے سوا کچھ نہیں۔

سوشل میڈیا پر وہ بہت متحرک ہیں۔ شائد ہی کوئی دن ایسا ہو کہ ان کے فیس بک پیج پر ان کی کوئی نئی تحریر موجود نہ ہو ۔لکھنا ان کے لئے شوق سے زیادہ مشن کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا کو نظریاتی اور سماجی تبدیلی کے لئے بہت اہم خیال کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی تحریروں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لئے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔

چند سال پہلے تک سوشل میڈیا عوام کی نچلی پرتوں کی دسترس سے باہر تھا ۔ ان دنوں عامتہ الناس کو اپنے خیالات و نظریات سے روشناس کرانے کا ذریعہ کتاب ہی تھی۔ ارشد محمود نے اپنے خیالات اپنی کتابوں کی صورت عام لوگوں تک پہنچانے کا اہتمام کیا تھا۔ انھوں نے تین کتابیں لکھی ہیں جن میں پاکستان کی مذہبی ، سماجی اور نظریاتی صورت حال کے مختلف پہلووں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

ان کی پہلی کتاب ’ تصور خدا‘ تھی جس میں انھوں نے مختلف تاریخی ادوار میں ’تصور خدا‘ کی ابتدا، نشوو نما اور ارتقا کا جائزہ لیا ہے۔ان کا موقف ہے کہ’ تصور خدا‘ کوئی ساکت و جامد تصور نہیں ہے بلکہ مختلف ادوار اور مذاہب میں ’تصور خدا‘ مسلسل ترقی پذیر رہا ہے۔ ماضی بعید میں ’خدا‘ سے جو خصوصیات و صفات وابستہ کی جاتی تھیں زمانہ جدید میں ان کی نوعیت بالکل بدل چکی ہے۔

ان کی دوسری کتاب ثقافتی گھٹن اور پاکستانی معاشرہ ‘تھی جس میں انھوں نے سماجی پسماندگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ثقافتی گھٹن کو موضوع بنایا ہے۔ ثقافتی گھٹن کے نتیجے میں جو اخلاقی بگاڑ جنم لیتا ہے ارشد محمود نے اپنی کتاب میں اس کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ اپنی تیسری کتاب ’ تعلیم اور ہماری قومی الجھنیں‘ میں انھوں نے ہماری تعلیم کے نتیجے میں جو مائنڈ سیٹ تشکیل ہوا ہے اس کواپنی بحث کا موضوع بنایا ہے۔

ہمارے نظام تعلیم کی بدولت جو مائنڈ سیٹ متشکل ہوا ہے تعصب، حسد ، ہر نئے خیال سے خوف ،محصور ذہنیت اور خودساختہ برتری اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ زیر نظر کتاب ’آواز عصر‘ ارشد محمود کے متفرق مضامین کا مجموعہ ہے۔ مجموعہ میں شامل کچھ مضامین تو وہ ہیں جو گاہے گاہے مختلف جرائد ورسائل میں چھپ چکے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو مصنف نے اپنے فیس بک پیچ پر پوسٹ کئے ۔

ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے اس کی بدولت اذہان میں بہت سے فکری مغالطے ، مبالغے، جامد عقائد ، جھوٹ اور غلط بیانی سے آلودہ خیالات اپنے پاؤں جما چکے ہیں۔ان جامد اور تعصب سے لبریز عقائد کے خلاف قلمی جنگ ضروری ہے تاکہ عام لوگوں کی بالعموم اور تعلیم یافتہ افراد کی بالخصوص سوچ،فکر کو ابہام اور فرضی قصے کہانیوں کے گورکھ دھندوں سے نجات دلائی جاسکے ۔ ارشد محمود کے یہ مضامین انہی مقاصد کو پیش نظر رکھ کر لکھے گئے ہیں ۔

مغربی تہذیب کے بارے میں ہمارے ہاں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مغربی معاشرہ ’جنسی بے راہ روی کا شکار ‘ ہے۔ زنا اور قانونی تعلق کے بغیر بچوں کی پیدائش اور خودغرضی ہمارے نزدیک مغربی معاشرے کی اہم اور لازمی خصوصیات ہیں۔ ارشد محمود اس تصور کی نفی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’مغرب میں عورت کی عزت جتنی محفوظ ہے اتنی کسی ایسے معاشرے میں نہیں جو خود کو پاکباز سمجھتا ہے۔وہاں جوان لڑکیا ں تن تنہا دور دراز کے ممالک کا سفر کرتی ہیں۔ ہوٹلوں میں بسا اوقات اجنبی مردوں کے ساتھ روم شیئر کرتی ہیں لیکن کیا مجال کہ کسی کے ساتھ کوئی زبردستی کر جائے‘۔

اس کے بر عکس ہمارے ہاں ایسا ممکن نہیں ہے۔ ہمارے ہاں زنا بالجبر روزمرہ کا معمول ہیں حتی کے نابالغ لڑکیاں بھی اس ظلم و زیادتی سے محفوظ نہیں ہیں۔ یہاں ہر سال غیرت کے نام پر سینکڑوں عورتوں کو ان کے قریبی عزیز قتل کر دیتے ہیں ۔ اکیلی عورتوں کے لئے سفر کرنا جان جو کھوں کا کام ہے۔ شرافت، حیا اور پردے کے نام پر ہمارے نوجوان جنسی مریض بن چکے ہیں۔ مغرب میں لوگ زندگی ( خوشیوں سے بھرپور) گذار رہے ہیں جب کہ مشرق میں ارشد محمود کے بقول’ لوگ زندگی عذاب کے طور پر گذار رہے ہیں ‘۔

مسئلہ کشمیر ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی بدولت پاکستان اور بھارت کے مابین تین مکمل اور دو ادھوری جنگیں ہوچکی ہیں ۔ گذشتہ ستر سال سے یہ مسئلہ حل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ۔ اس مسئلے کے بارے میں بھی ارشد محمود کی سوچ عقلی اور عملی ہے۔ وہ پاکستانی قوم پرستی کی بجائے اس مسئلے کو حقائق کی عینک سے دیکھتے ہیں ۔ان کا موقف ہے کہ کشمیر کو الجھانے میں زیادہ ہاتھ پاکستان کی حکمران اشرافیہ کا ہے۔ سیاسی اور فوجی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ہمیشہ اس مسئلے کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ کشمیر کے عوام کو اگر کبھی یہ موقع ملا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر یں تو ارشد محمود کا خیال ہے کہ وہ دونوں۔پاکستان اور بھارت کے ساتھ رہنے کی بجائے آزاد ی حاصل کرنا چاہیں گے۔

ارشد محمود سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کو کشمیر کے نام پر مفاد پرستوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اور بھارت باہم مذاکرات کریں اور بتدریج تمام متنازعہ امور کو حل کی طرف لے کر جائیں۔ یہ کہنا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کئے بغیر دونوں ممالک کے باہمی تعلقات ٹھیک نہیں ہوسکتے، غیر حقیقت پسندانہ حکمت عملی ہے۔

ارشد محمود نے اپنے ایک مضمون ’ہماری سکیورٹی ایسٹیبلشمنٹ کے اسلامی ہیروز‘ میں ان غیر ملکی حملہ آوروں کی حقیقت بیان کی ہے جنھیں ہماری نوجوان نسل بغیر جانے اپنا ہیرو سمجھتی ہے۔ ہمارے نصاب تعلیم کے صدقے جائیے جس کی بدولت ہم نے اپنی نوجوان نسل کویہ باور کرادیا ہے کہ بیرونی حملہ آور جو حادثاتی طور پر مسلمان تھے ہمارے ہیرو ہیں ۔ یہ اس تعلیمی نصاب کا پھل ہے کہ ہمارے سکیورٹی ادارے اپنی پیشہ ورانہ مشقوں اور ہتھیاروں کو ان بیرونی حملہ آوروں کے ناموں سے منسوب کرتے ہیں۔

ہمارے نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ محمود غزنوی اسلام کا شیدائی اور مجاہد تھا ۔ ہندوستان پر اس نے جو سترہ حملے کئے تھے وہ ’اسلام کا پیغام پھیلانے‘ کے لئے تھے نہ کہ لوٹ مار کی غرض سے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہمارے اسلامی مورخین نے غزنویوں کے قاتل اور ان کی حکومت کا تختہ الٹنے والا شہاب الدین غوری کو بھی’ مجاہد اسلام‘ قرار دے رکھا ہے۔ حالانکہ ان بیرونی حملہ آوروں کا کوئی دین ایمان نہیں تھا ۔ لوٹ مار ہی ان کا مذہب اور قتل و غارت گری ان کا مشن تھا ۔ ان کے راہ میں رکاوٹ بننے والا خواہ مسلمان ہوتا یا کوئی دوسرا مذہبی عقیدہ رکھنے والا یہ اس کا قتل انتہائی سفاکی سے کر دیتے تھے۔

محمود غزنوی کی اسلام سے محبت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بغداد کا بھی وہی حشر کرنا چاہتا تھا جو اس نے سومنات کے مندر کا کیا تھا۔ اسے ستم ظریفی ہی کہا جاسکتا ہے کہ ہماری سکیورٹی ایسٹیبلشمنٹ نے ان لیٹروں کو اپنا ہیرو بنا رکھا ہے اور ان کے نام پر ہم نے اپنے میزائلوں اور ایٹمی ہتھیاروں کے نام رکھے ہوئے ہیں۔ ہماری عسکری اشرافیہ کا ایک اور ہیرو احمد شاہ ابدالی بھی ہے اور اس حقیقت کے باوجود کہ اس نے دلی کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی اور لاکھوں مسلمانوں کو تہ تیغ کیا تھا ۔یہ احمد شاہ ابدالی کے حملے ہی تھے جس نے دلی کی مغل باد شاہت کو کمزور کیا اور ہندوستان پر انگریزوں کے قبضے کی راہ ہموار کی تھی ۔

ارشد محمود کے یہ مضامین غیر روایتی سوچ و فکر کے حامل ہیں ۔ یہ اپنے پڑھنے والوں کو غورو فکر کی نئی دنیا سے روشناس کراتے ہیں ایسی دنیا جو عقل، معروضیت اور عملیت پسندی سے تشکیل پاتی ہے ۔ یہ مضامین ان فکری الجھنوں کا پر دہ چاک کرتے ہیں جنھوں نے ہماری نوجوان نسل کے اذہان کو اپنی گرفت لے کر ترقی اور خوشحالی کی راہ روک رکھی ہے ۔ امید ہے یہ مضامین غورو فکرکے نئے در وا کرتے ہوئے جامد عقائد میں جکڑے ہمارے سماج میں فکری گشادگی کا باعث بنیں گے۔

 

Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 42998779680

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.5 ★★★★★
Based on 1638 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
K
Verified Purchase
Karly P.
Houston, US
★★★★★ 4
Great moisturizer
Size: 20.3 Fl Oz (Pack of 1), Size: 20.3 Fl Oz (Pack of 1)
This cream is a great alternative to the more expensive name brand creams. I have ordered this a few times and I feel like it does a wonderful job keeping my skin feeling soft, nourished and moisturized until the next time I shower. I do not feel as though my skin is greasy or oily after using this product. The cream does not feel thick or heavy on my skin. I am able to put a pair of pants on comfortably after using cream without feeling sticky. The cocoa butter scent is light and not over powering. There are parts of my body that I have to avoid with the cream because I do have eczema, but this is something I have grown up with and I am used to. I have purchased the cream twice, and unfortunately, the second time I bought it the pump top came a little bit destroyed (shown in photo). The product is still fully functional and will not determine from buying this again in the future!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 14, 2026
C
Verified Purchase
Chillbilly
Birmingham, US
★★★★★ 5
Satisfied
Size: 20.3 Fl Oz (Pack of 1)
Great value. Lotion is non greasy - fast absorbing and will last thru handwashing, leaves skin revitalized and soft. The smell is not as pleasant as I would like and the bottle's size makes pumping difficult. But all in all it was a good buy and worth the cons.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 11, 2026
S
Verified Purchase
Sheni
Lexington, US
★★★★★ 5
High Quality Cocoa Butter Lotion
Size: 20.3 Fl Oz (Pack of 1)
This feels amazing on the skin, and works for every skin type. The application is very simple, and it lasts a long time ! The fragrance is sooo nice, and is almost exactly the same as the Vaseline version (as advertised on the bottle!).
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 3, 2026
P
Verified Purchase
Pumpy girl
Phoenix, US
★★★★★ 3
Good lotion Bad pump
Size: 20.3 Fl Oz (Pack of 1)
Great lotion! But the pump won’t open :(((
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 14, 2026
F
Verified Purchase
fillt
Los Angeles, US
★★★★★ 5
excellent lotion, neutral enough for mens use as well.
Size: 20.3 Fl Oz (Pack of 1)
mild scent, vanishes quickly, excellent replacement for much more expensive boutique lotions
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 25, 2026

recommand products