SKU: 26749037626

بلوچستان اور برطانوی سامراج | Balochistan Or British Samraj

Sale price$270.00 Regular price$300.00
Save 10%

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 11 - Jul 16

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

بلوچستان اور برطانوی سامراج | Balochistan Or British Samraj: : 220 1511 1749 1794 1839 " " " "

کتاب: بلوچستان اور برطانوی سامراج

تبصرہ: جعفر قمبرانی

یہ کتاب چھ ابواب اور 220 صفحات پر مشتمل ایک بہترین کتاب ہے جو کہ بلوچ قوم کی حکمرانییت، بہادری اور شجاعت کو بہت بہترین انداز میں بیان کرتی ہے۔ کتاب میں بلوچستان میں نوآبادیاتی نظام کی شروعات سے اثرات تک کو مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔

کتاب کے پہلے باب میں بلوچستان کی وسیع وعریض سرزمین کے حدود اور جغرافیائی اہمیت کا ایک انتہائی اہم نقشہ کھینچا گیا ہے جس میں دریاوں سے لیکر درے، پہاڑ، ریگستان اور کہی دیگر اہم چیزوں کو زیر تحریر لائی گئی ہے۔ کتاب ہذا کے مطابق بلوچستان وہ خطہ ہے جہاں سے سکندر اعظم کے تینوں قافلوں میں سے ایک بلوچستان کے درہ مولہ اور وہ خود مکران سے ہوتے ہوئے ایران واپس گئے تھے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتی ہے کہ جنوبی ایشیاء اور مغربی ایشیائی ممالک کے درمیان بلوچستان پل کا کام کرتی ہے جہاں ممالک بحر ہند سمیت مختلف ممالک سے جڑ سکتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انگریزوں کو افغانستان تک جانے کیلئے سب سے پہلے ریاست قلات کو یرغمال کرکے قبضہ اور اپنے زیر کرنے کی ضرورت محسوس پڑی۔

بلوچستان کے معدنیات کے حوالے سے کتاب میں شامل حصے قابل رشک ہیں جہاں کرومائیٹ، بروناہیٹ، سنگ مر مر، سونا، چاندی، گیس، لوہا اور گندھک وغیرہ کے بڑے بڑے ذخائر کا بلوچستان کے مختلف علاقوں میں برے پیمانے پر موجودگی ذکر کیا گیا ہے۔

مزید یہ کہ کتاب کے دوسرے باب میں ریاست قلات اور بلوچستان کے حکمرانوں اور خوانین کا تزکرہ کیا گیا ہے جس میں سحرائی، سیوہ قمبر اور احمد کا تزکرہ سر فہرست ہے۔ تاہم کتاب میں بلا تردد سچ لکھتے ہوئے بیان کیا گیا ہے کہ قلات کی بلوچ مرکزیت کی بنیاد ڈالنے کا سہرا بلوچوں کے میروانی قبیلے کے سر جاتا ہے۔

1511 میر عمر میروانی کا ذکر کرتے ہوئے شازیہ جعفر لکھتے ہیں کہ وہ سردار میرو خان میروانی کے بیٹے تھے اور ان کے بعد قلات کا حاکمیت انکے پاس تھی۔ تاہم انکے بیٹے بجار خان نے حکومت سنبھالنے کے بعد عوام کے ہاتھوں میں دے دی اور خود کہی گوشہ نشین ہوگئے۔ یوں ریاست قلات کی بھاگ دوڑ مغلوں کے قبضے میں چلی گئی۔

کتاب میں خوانین قلات کا مغلوں سے میروانی، قمبرانی اور پھر احمدزئی خاندان تک کا مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے اور سب سے بڑھ کر میر نوری نصیر خان اور شھید میر محراب خان کے ادوار کو خوب خوب بیان کیا گیا ہے۔

خان نوری نصیر خان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ 1749 سے 1794 تک حکومت کرکے انہوں نے بلوچ سرزمین کو ایک نئے انداز سے بدل دیا۔ میر نوری نصیر خان ہی تھے جنہوں نے بیرون ممالک سے تجارت و دیگر امور پر اپنی بہترین خارجہ پالیسی بنائی۔ ریاست کیلئے قبائلی فوجی نظام محکمہ انصاف و مجلس مشاورت تک انہوں نے تشکیل دی۔

انگزیر دور کے آنے تک کا اخری خان، خان شھید محراب خان کا لکھتے ہوئے کتاب ہذا انہیں قدیم بلوچستان کا پہلا جہد کار اور مزاحمت کار لکھتا ہے کہ انہوں نے ہی 1839 میں انگریز سرکار اور سامراج کے خلاف قلات میری میں بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔

کتاب میں چند ایسے افراد کا ذکر بھی ہے جنیوں نے انگریزوں کا ہالہ کار بن کر شھید محراب خان اور انکی حکومت کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان میں سے چند اہم نام اخوند محمد صالح، اخوند محمد صدیق، ملا محمد حسن اور

شاہ شجاع بن تیمور شاہ ہیں

یاد رہے کہ شاہ شجاع بن تیمور شاہ وہ شخص تھے جنہوں نے افغانستان سے بھاگ کر خان قلات کے ہاں پناہ لی تھی اور پھر انگریزوں کے ساتھ مل کر اپنے محسن مہراب خان شھید کے خلاف چال چلی تھی۔

اسکے علاوہ کتاب ہذہ میں معاہدہ گندامک، معاہدہ ڈیورنڈ، معاہدہ پامیر، معاہدہ الفنسٹن اور ایران برطانیہ، افغانستان روس معاہدات کا زکر کیا گیا ہے اور خصوصاً بلوچستان پر ان کے شدید جغرافیائی اور سیاسی اثرات کا بھی تفصیلات بیان کئے گئے ہیں۔

تمام ابواب کو مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بلوچستان کا وسیع وعریض سرزمین انگریزوں کی "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کے تحت سمیٹ کر موجودہ بلوچستان تک محدود کیا گیا ہے۔ برطانوی سامراج کی پالیسی "لالچ دو" کے بنیاد پر خوانین قلات سے مری قبائل، تالپور بلوچوں اور دیگر کو دست وگریباں کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی تھی۔ کراچی ڈیرہ جات سیستان و دیگر بلوچ علاقوں کو بلوچستان سے جدا کردیا گیا تھا۔ اور بلوچ قوم کی تاریخ کو مسخ کرنے اور انہیں آپس میں دست وگریباں کرنے کی غرض سے قوم کو زبان علاقے اور عہدوں کے نام پہ تقسیم کرکے رکھ دیا۔

یقیناً بلوچستان آج جن مسائل کا آماجگاہ بن چکا ہے ان میں سے اکثر انگریزوں کی آمد اور نوآبادیاتی پالیسیوں کے باعث ہی بلوچستان کو درپیش ہے

بلاشبہ برطانوی سامراج وہی ہے جنہوں نے بلا سوچے سمجھے اپنی مفادات کیلئے قلات جیسے عظیم ریاستوں گھمبیر صورتحال سے دوچار اور مسائل کا آماجگاہ بناکر چھوڑ دی۔

Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 26749037626

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.6 ★★★★★
Based on 575 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
L
Verified Purchase
Liam
Pawtucket, US
★★★★★ 5
Another great book
Format: Hardcover
Loved this for my wild child
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 8, 2026
R
Verified Purchase
Rena
Lake Worth, US
★★★★★ 5
Favorite book!
Format: Board book
This is our family's all-time favorite book!!! It is so cute and makes bugs fun! It is educational, with cute little rhyming words and great illustrations
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on July 27, 2025
S
Verified Purchase
sfalc
Dallas, US
★★★★★ 5
The kid and I both love this book
Format: Hardcover
I am so enamored with the illustrator of this book that I've taken to buying almost everything he does. The illustrations here are so cute and playful! My daughter wants to read this almost every single day. She loves to point out the bugs on the different page and we make up stories about them. She can now recognize so many bugs we when go outside and is really excited to see them in real life! She laughs at the antics of the ladybug on each page and loves that there are different animals hidden in with the bugs. Really can't say enough good things about this book. My only caution is that there aren't really a lot of words, so if you aren't comfortable ad-libbing or making up stories you may find it a bit boring. But if you make it interactive it's really fun!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 1, 2020
B
Verified Purchase
Bug
Louisville, US
★★★★★ 5
Greatest book on the planet
Format: Board book
This book was purchased for me as a baby shower gift. My daughter is obsessed with this book. We have read it so much that our first copy has seen some damage (the book is sturdy, the damage is our fault). I had to get another copy just to keep forever. I will also be purchasing the hard cover book to keep in my collection to have forever. The illustration is brilliant, we love Oscar, the writing itself is so fun. I love that it encourages exploration, play, as well as education. 10/10 - this is our favorite childrens book ever. We read it maybe 30 times a day.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on March 19, 2024
J
Verified Purchase
Jackthepumking
Fort Morgan, US
★★★★★ 5
Cute Rhymes and wonderful info
Format: Board book, Format: Board book
This book is super cute and makes bugs interesting with it's colorful pages and different big varieties. The book rhymes throughout the pages and it's so cute and almost reminds me of song that could have sung by the "Animaniacs" (my age is showing lol). In one of the pics I show the cover damaged but that's from my son chewing on the book. Just because it's a board book doesn't meant it's exempt from damage, just makes it last a little longer than a paperback. I also REALLY like that there is a page that lists the bugs seen along with their names which is helpful in teaching your little one! My son enjoyed this beautiful book. :)
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 15, 2023

recommand products